Urdu Gazal By Zeeshan Ameer Saleemi
عشق ہوں، جلوۂ گفتار بھی کر سکتا ہوں
میں ترے ہجر کا اقرار بھی کر سکتا ہوں
تو نے سمجھا کہ میں مجبور ترے غم سے ہوں
میں تری ذات سے انکار بھی کر سکتا ہوں
اپنے ہی اشکوں کی تحریر سے، اے ناقدِ وقت
میں ترا ذکر گرفتار بھی کر سکتا ہوں
داورِ وقت! میں وہ شخص نہیں جو رُک جائے
حق کی تحریر کو گفتار بھی کر سکتا ہوں
میرے سینے میں اگر درد کا دریا ہے رواں
میں اسی موج کو پتوار بھی کر سکتا ہوں
تیری زلفوں میں چھپا خوابِ تمنا کا نشاں
میں تری شام کو بیدار بھی کر سکتا ہوں
تیری پلکوں پہ اگر نیند کا موسم ٹھہرے
میں تری نیند کا دیدار بھی کر سکتا ہوں
تیرے لب پر جو ٹھہر جائے مرا نام کبھی
میں تری دھڑکنوں کو پیار بھی کر سکتا ہوں
عشق ذیشانؔ ، اگر موجِ طلب بن جائے
راوی لاہور کا میں پار بھی کر سکتا ہوں
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment