My Favourite Urdu Gazal
رخسار پہ جھلکی ہے ضِیا کھینچ کے حیرت
آنکھوں نے کیا حُسن دعا کھینچ کے حیرت
اسرارِ ازل پردۂ امکان میں چھپ کر
ہر رمز ہے معنی کی ادا کھینچ کے حیرت
پیمانۂ ہستی میں ترے لب کی ہے خوشبو
مے خانہ بھی کرتا ہے نوا کھینچ کے حیرت
افکار کے طوفاں میں ترا نام ہے جگمگ
تصویر ہے معنی کی بنا کھینچ کے حیرت
تقدیر کے صحرا میں ترا نقشِ کفِ پا
کرتا ہے مرا قافلہ را کھینچ کے حیرت
عالم کے اسرار ترے چشم میں ہیں محو
افلاک بھی کرتے ہیں ادا کھینچ کے حیرت
گہوارۂ امواج میں خوابیدہ ہے صورت
دریا سے نکلتی ہے صدا کھینچ کے حیرت
ہر ذرّہ ترے حسن کو تسلیم کرے ہے
خورشید ہے مٹی میں چھپا کھینچ کے حیرت
ذیشانؔ نے لکھ دی ہے غزل شوق سے آخر
اشعار نے کی جاں کو وفا کھینچ کے حیرت
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment