Hijr-Nama By Zeeshan Ameer Saleemi
کتاب : ہجرنامہ
شاعر : ذیشانؔ امیر سلیمی
اشاعت : مہر گرافِکس اینڈ پبلیشرز
رابطہ نمبر : 00923065267717
آئی -ایس- بی -این : 9786277866358
ایڈریس : بھوانہ بازار، فیصل آباد، پاکستان
: کتاب کا مختصر تعارف
ہجر نامہ صرف شاعری کا مجموعہ نہیں
یہ دل کی اُن خاموش دھڑکنوں کا ترجمان ہے
جو فراق کے اندھیروں میں بھی جلتی رہتی ہیں
یہ اُن زخموں کی نرمی سے لکھی ہوئی داستان ہے
جنہیں وقت نہیں بھرتا، بس یادوں کی خوشبو انہیں زندہ رکھتی ہے
ذیشانؔ امیر سلیمی کے اشعار میں
ہجر کی تلخی، وصل کی نمی، اور احساس کی لطافت
ایسے گھل مل جاتی ہے کہ ہر مصرعہ ایک لمحۂ جاوداں بن جاتا ہے
ان کی شاعری میں جدائی کوئی دکھ نہیں
بلکہ ایک روحانی سفر ہے
جہاں درد، دعا کی صورت میں بدل جاتا ہے
ہر غزل میں ایک نیا آسمانِ احساس ہے
ہر شعر میں کسی خاموش آنسو کی چمک چھپی ہے
یہ کتاب اُن دلوں کے لیے ہے
جو محبت کی روشنی میں جلتے رہے
اور جنہوں نے ہجر کے اندھیروں میں بھی امید کے دیے روشن رکھے
اگر آپ نے کبھی کسی کو دل سے چاہا ہے
اگر آپ نے کبھی تنہائی میں کسی نام کو پکارا ہے
تو ہجر نامہ آپ کے دل کی وہ صدا بن جائے گا
جو لفظوں سے نہیں، احساس سے سنی جاتی ہے
ایک غزل، مجموعۂ کلام ہجرنامہ سے منتخب شدہ
وہ آیا تو لایا بہاروں کا حال سمیت
کِھلا ہر گل اپنے سارے جمال سمیت
ساون جو برسا ہے تو دل کی تڑپ جاگی
یاد وہ آیا بہت چشم و لب و گال سمیت
آنکھ رکی رخِ تاباں پہ تو ہوئی حیرانی
روشنی چھا گئی ہر ذرّے پہ کمال سمیت
قافلہ وقت کا رُکتا نہیں اک پل کے لیے
ہم ہی بیٹھے رہے رستوں پہ سوال سمیت
بوندِ باراں کے جھونکے چھو کر پلکوں کو
چھپ گئے لمحے تیرے ہر رخ و بال سمیت
ہجر کی راتوں میں جلتی رہی ہے امید
دل کے پردے میں بکھرا عکسِ سوال سمیت
چشمِ تر نے دیکھا خوابِ وصال ترا
دل میں چھپ گیا ہر نقش و جمال سمیت
پھولوں کی خوشبو نے چھو لی دل کی گلی
کھل گئے لمحے ترے ہر رنگ و خال سمیت
بزمِ جاں میں روشن ہوا ہر شعلہ، ذیشانؔ
غم کی دھوپ میں بکھرا رنگِ سوال سمیت

Comments
Post a Comment