ہجرنامہ کی شاعری
ذیشان امیر سلیمی کا ہجر احساس کی نئی تشریح
تحریر: ثنا جعفری دبئی متحدہ عرب امارات
اردو شاعری ہمیشہ سے محبت اور جدائی کی سرزمین رہی ہے لیکن کچھ شاعر ایسے آتے ہیں جو ان روایتی موضوعات میں نئی جان ڈال دیتے ہیں۔ ذیشان امیر سلیمی انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کی شاعری میں جدائی کوئی غم نہیں بلکہ ایک تخلیقی کیفیت ہے جو روح کو روشنی عطا کرتی ہے۔
ان کی کتاب ہجرنامہ نے اردو ادب میں وہ تاثر چھوڑا ہے جو برسوں بعد بھی تازہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ کتاب محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ دل کے سفر کی کہانی ہے۔ ہر صفحے پر احساسات کی خوشبو پھیلی ہے اور ہر مصرع کسی نہ کسی اندرونی خاموشی کو آواز دیتا ہے۔
ذیشان امیر سلیمی کے ہاں عشق محض جذبہ نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ ہے۔ وہ محبت کو صرف دو دلوں کے درمیان تعلق نہیں مانتے بلکہ اسے انسان کے وجود کی گہرائیوں سے جوڑتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں ایک عجیب سا سکون ہے جو قاری کو خود سے روبرو کر دیتا ہے۔
ہجرنامہ کی شاعری میں کلاسیکی روایت کے ساتھ جدید حساسیت بھی جھلکتی ہے۔ یہی امتزاج ذیشان کے اشعار کو زندہ اور پائیدار بناتا ہے۔ وہ غزل کے اندر ایک نیا لہجہ لے کر آئے ہیں جس میں سادگی کے ساتھ گہرائی بھی ہے۔
ادبی حلقوں میں ہجرنامہ کو اردو ادب کی ایک نمایاں پیش رفت کہا جا رہا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان، خلیجی ممالک اور برطانیہ کے قارئین میں بھی مقبول ہو رہی ہے۔ نوجوان نسل اس میں وہ سچائی محسوس کرتی ہے جو ان کے اپنے تجربات سے جڑی ہوئی ہے۔
ذیشان امیر سلیمی نے یہ ثابت کیا ہے کہ سچا شاعر وہ ہوتا ہے جو لفظوں سے زیادہ احساس کو اہمیت دے۔ ان کی شاعری پڑھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ اردو ادب کا مستقبل اب بھی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔


Comments
Post a Comment