Best Urdu Poet Zeeshan Ameer Saleemi
میری کہکشاں میں یہ طُولِ ہجر ہے سخت
دِل کی گہرائی میں اُصولِ ہجر ہے سخت
ذرّے ذرّے میں ہے تَراپِ رُوحِ جمال
جلوۂ حُسن و جاں پہ دُخولِ ہجر ہے سخت
چاند کے حلقۂ ضَو میں صُبح کا ہے قطرہ
روشنی کے یہ بدن پہ نُزُولِ ہجر ہے سخت
ابر کی نغمہ سُخن میں صدائے یاد اُٹھے
قطرۂ خُونِ جگر پہ قُبولِ ہجر ہے سخت
زُلف کی تیرگی میں کمال کا ہے یہ سفر
روشنی کی کرنوں میں حُصولِ ہجر ہے سخت
جسم کی خوشبوؤں میں بکھر گئی بیتابی
روح کی گہرائی کو دُخولِ ہجر ہے سخت
اس رخِ گردِ سحر میں چراغِ گلاب جلے
دید کی محفل پر بھی نُزُولِ ہجر ہے سخت
قسمتِ شب میں بہتی ہے جستجو کی لہریں
یار کی جانب گامِ وصولِ ہجر ہے سخت
دل رنجور کو لے آیا بہا کے ذیشانؔ
یاد کے صحرا میں بھی وصولِ ہجر ہے سخت
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment