Best Pakistani Urdu Poet - Zeeshan Saleemi
دھوپ نے چھین لی چھاؤں کی آبرو
کیا بچائیں گے ہم سایۂ آرزو؟
وقت کی راکھ میں دفن ہیں کچھ کلام
جن سے اٹھتی ہے خوابوں کی یہ گفتگو
آئنے نے بھی انکار کر ہی دیا
جب نظر ہو گئی آئینہ خاک خو
دل پہ تحریر تھی رات کی داستاں
غم کو اشکوں سے کہتے رہے مو بہ مو
خواب بکھرے تو آنکھوں میں جلنے لگے
یاد کی دھوپ میں، بڑھ گئی جستجو
زخم کہتا رہا، خون بہتا رہا
عشق کی رہگزر، ہو گئی بے وضو
نام ذیشانؔ کا، لب پہ کم آ سکا
یاد میں ڈھل گئی دل کی سب آرزو
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment